پھلوں کے باغات پر کورے اور لو کے اثرات: تدارک اور انتظام
پھلوں کے باغات پر کورے اور لو کے اثرات پاکستان میں باغبانوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج سمجھے جاتے ہیں۔ آم، مالٹا (کنو) اور امرود جیسے قیمتی پھلوں کے باغات موسم کی شدت — خصوصاً سردیوں کا کورا اور گرمیوں کی لو — سے شدید متاثر ہوتے ہیں۔ ایک رات کا شدید کورا یا چند دنوں کی لو پورے سیزن کی محنت اور منافع کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اسی لیے باغبانوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ان دونوں موسمی آفات سے باغات کو کیسے بچایا جائے۔
اس آرٹیکل میں ہم تفصیل سے دیکھیں گے کہ کورا اور لو آم، مالٹا اور امرود کے باغات پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں، اور ان کے تدارک و انتظام کے عملی طریقے کیا ہیں۔
کورا (Frost) کیا ہے اور یہ کیوں نقصان دہ ہے؟
کورا اس وقت بنتا ہے جب سردیوں کی راتوں میں درجہ حرارت نقطہ انجماد (0 ڈگری سینٹی گریڈ) کے قریب یا اس سے نیچے چلا جاتا ہے۔ اس دوران پودوں کے خلیوں میں موجود پانی جم جاتا ہے، جس سے خلیے پھٹ جاتے ہیں اور پودے کے ٹشوز مستقل طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان میں پنجاب اور بلوچستان کے میدانی علاقوں میں دسمبر سے فروری تک کورے کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
مختلف پھلوں پر کورے کے اثرات
آم کے باغات پر کورے کا اثر
آم ایک اشنکٹبندیی (Tropical) پھل ہے جو سردی کے لیے انتہائی حساس ہے۔
- کورے کی صورت میں آم کے نئے پتے اور کونپلیں جھلس جاتی ہیں اور بھورے رنگ کی ہو جاتی ہیں۔
- پھول اور بور والی شاخیں کورے سے خاص طور پر متاثر ہوتی ہیں، جس سے پھل کی پیداوار میں نمایاں کمی آتی ہے۔
- شدید کورے کی صورت میں چھوٹے اور نئے پودے مکمل طور پر ختم بھی ہو سکتے ہیں۔
مالٹا (کنو) کے باغات پر کورے کا اثر
مالٹا اور کنو نیم اشنکٹبندیی پھل ہیں، اس لیے یہ آم کی نسبت کچھ حد تک سردی برداشت کر لیتے ہیں، لیکن شدید کورا انہیں بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
- کورے سے پتے مرجھا کر گر جاتے ہیں اور شاخیں خشک ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
- پھل کے چھلکے پر داغ پڑ جاتے ہیں اور بعض اوقات پھل اندر سے خشک ہو جاتا ہے، جسے "کورا لگنا” کہا جاتا ہے۔
- مسلسل کئی راتوں کا کورا جڑوں کے قریب تنے کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
امرود کے باغات پر کورے کا اثر
امرود نسبتاً سخت جان پھل ہے، لیکن کم عمر پودے اور نئی کونپلیں کورے سے متاثر ہوتی ہیں۔
- نئی شاخوں کے سرے جھلس جاتے ہیں جس سے پودے کی نشوونما رک جاتی ہے۔
- پھول گرنے کی شرح بڑھ جاتی ہے، جس سے پیداوار کم ہوتی ہے۔
کورے سے بچاؤ اور انتظام کے طریقے

دھواں کرنا (Smoke Method)
کورے والی راتوں میں باغ کے اردگرد گیلی لکڑی، پرالی یا کوڑا کرکٹ جلا کر دھواں پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ دھواں ایک تہہ کی طرح کام کرتا ہے جو زمین کی حرارت کو باہر نکلنے سے روکتا ہے اور درجہ حرارت میں کمی کو کم کرتا ہے۔
آبپاشی کا استعمال
کورے کی رات سے پہلے ہلکی آبپاشی کرنا مفید ثابت ہوتا ہے، کیونکہ گیلی زمین خشک زمین کی نسبت زیادہ حرارت جذب اور خارج کرتی ہے، جس سے پودوں کے اردگرد درجہ حرارت قدرے بہتر رہتا ہے۔
چھڑکاؤ (Sprinkler) کا طریقہ
کچھ ترقی یافتہ باغات میں کورے کی راتوں میں ہلکا پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے۔ پانی جمنے کے دوران حرارت خارج کرتا ہے جو پودے کے ارد گرد درجہ حرارت کو نقطہ انجماد سے اوپر رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
ونڈ بریک اور باڑ کا استعمال
باغ کے اردگرد درختوں کی قطاریں یا مصنوعی باڑ لگانے سے سرد ہواؤں کی رفتار کم ہو جاتی ہے، جس سے کورے کی شدت میں کمی آتی ہے۔
چھوٹے پودوں کو ڈھانپنا
نئے اور کم عمر پودوں کو کپڑے، پلاسٹک شیٹ یا خاص کور سے ڈھانپ دینا چاہیے تاکہ براہ راست سرد ہوا کا اثر کم سے کم ہو۔
لو (Heat Wave) کیا ہے اور یہ کیسے نقصان پہنچاتی ہے؟
لو گرمیوں کے مہینوں میں چلنے والی وہ شدید گرم اور خشک ہوا ہے جس میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے۔ یہ عام طور پر مئی سے جولائی کے دوران پاکستان کے میدانی علاقوں میں چلتی ہے اور پودوں کی نمی کو تیزی سے خشک کر دیتی ہے۔
مختلف پھلوں پر لو کے اثرات
آم کے باغات پر لو کا اثر
- شدید لو سے آم کے پھل جھلس جاتے ہیں اور وقت سے پہلے گر جاتے ہیں، جسے "فروٹ ڈراپ” کہا جاتا ہے۔
- پتے جھلس کر کناروں سے خشک ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
- مسلسل لو چلنے سے پھل کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے اور معیار متاثر ہوتا ہے۔
مالٹا (کنو) کے باغات پر لو کا اثر
- لو کی وجہ سے پھل پر دھوپ جھلسنے کے داغ (Sunburn) پڑ جاتے ہیں، خاص طور پر درخت کے مغربی حصے پر لگے پھلوں پر۔
- شدید گرمی میں پھول اور نئے پھل بڑی تعداد میں گر جاتے ہیں۔
امرود کے باغات پر لو کا اثر
- لو سے پتے اور کونپلیں مرجھا جاتی ہیں۔
- پانی کی کمی کی صورت میں پھل چھوٹے رہ جاتے ہیں اور ذائقہ متاثر ہوتا ہے۔
لو سے بچاؤ اور انتظام کے طریقے

وقت پر اور بار بار آبپاشی
لو کے دنوں میں مٹی کو خشک نہ ہونے دیں۔ ہلکی مگر بار بار آبپاشی پودوں کی نمی برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ ممکن ہو تو صبح سویرے یا شام کے وقت پانی دیں تاکہ بخارات بن کر ضائع نہ ہو۔
سایہ دار جالی کا استعمال
خاص طور پر نئے اور کم عمر پودوں پر سایہ دار جالی (Shade Net) لگانے سے براہ راست دھوپ کی شدت کم ہو جاتی ہے اور جھلسنے سے بچاؤ ہوتا ہے۔
تنے پر سفیدی (وائٹ واش)
درخت کے تنے پر چونے کا محلول لگانے سے دھوپ کی حرارت منعکس ہوتی ہے اور تنا جھلسنے سے محفوظ رہتا ہے۔ یہ طریقہ خاص طور پر مالٹے اور آم کے باغات میں مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
ملچنگ (Mulching) کرنا
پودوں کے گرد گھاس پھونس، پرالی یا خشک پتوں کی تہہ بچھانے سے زمین میں نمی زیادہ دیر تک برقرار رہتی ہے اور جڑوں کا درجہ حرارت متوازن رہتا ہے۔
فوگنگ اور نمی برقرار رکھنا
باغات میں فوگرز (Foggers) کے ذریعے ہلکی نمی چھوڑنا ماحول کے درجہ حرارت کو کم رکھنے میں معاون ہوتا ہے، خصوصاً نرسری اور نئے پودوں کے لیے یہ طریقہ کافی فائدہ مند ہے۔
موسمیاتی پیشگوئی پر نظر رکھنے کی اہمیت
کورے اور لو دونوں اچانک آنے والی موسمی تبدیلیاں ہیں، اس لیے باغبانوں کو روزانہ موسمیاتی پیشگوئی چیک کرنے کی عادت اپنانی چاہیے۔ جدید موسمیاتی ویب سائٹس اور ایپلیکیشنز کے ذریعے کورے یا لو کی وارننگ پہلے سے مل جاتی ہے، جس سے بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں۔ مزید تفصیلی اور روزانہ کی موسمی پیشگوئی کے لیے آپ ہماری آج کا موسم اور اگلے 7 دن کی پیشگوئی کی صفحہ ملاحظہ کر سکتے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر باغبانی اور موسمیات سے متعلق مستند معلومات کے لیے Food and Agriculture Organization (FAO) کی ویب سائٹ ایک اچھا حوالہ ہے۔
نتیجہ
آم، مالٹا اور امرود کے باغات پر کورے اور لو کے اثرات پاکستانی باغبانوں کے لیے سنگین مسئلہ ہیں، لیکن بروقت اور مناسب انتظامی تدابیر سے ان کے نقصانات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ دھواں کرنا، آبپاشی، سایہ دار جالی، وائٹ واش اور ملچنگ جیسے آسان اور کم لاگت طریقے اپنا کر باغبان اپنی فصل کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ موسمیاتی پیشگوئی پر مسلسل نظر رکھنا اور وقت پر احتیاطی اقدامات اٹھانا ہی کامیاب باغبانی کی اصل کنجی ہے۔
جو باغبان موسم کی تبدیلیوں کو سمجھ کر پہلے سے تیاری کرتا ہے، وہی اپنے باغ کو کورے اور لو کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھ پاتا ہے اور بھرپور پیداوار حاصل کرتا ہے۔


