براہ راست
زراعت اور موسم 19 اگست 2026، بروز بدھ 6 منٹ میں پڑھیں

دھان کی کاشت اور مون سون: پانی کے ضیاع سے بچاؤ اور فصل کی بروقت نگہداشت

شیئر کریں: Facebook WhatsApp X Telegram

تعارف اور پس منظر

دھان (چاول) پاکستان کی دوسری بڑی نقد آور غذائی فصل ہے، جس کی باسمتی اقسام دنیا بھر میں اپنی خوشبو، لمبائی اور بے مثال ذائقے کے لیے مشہور ہیں۔ دھان کی کاشت اور مون سون کا آپس میں گہرا تعلق ہے، کیونکہ چاول کی فصل کا براہِ راست تعلق موسمِ گرما کے مون سون سسٹم اور وافر پانی کی دستیابی سے ہے۔

چونکہ پاکستان میں موسمی تغیرات کے باعث پانی کی کمی ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے، اس لیے برسات کے موسم میں بارش کے قدرتی پانی کا دانشمندانہ استعمال اور روایتی طریقوں سے پانی کے بے جا ضیاع کو روکنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

اس جامع مضمون میں ہم مون سون کے دوران دھان کی نگہداشت، پانی کے سائنسی انتظام اور بیماریوں سے بچاؤ کے عملی طریقوں کا جائزہ لیں گے۔

1. دھان کی پنیری اور مون سون کی بارشوں کا باہمی تال میل

دھان کی کامیاب کاشت کا دارومدار پنیری کی درست وقت پر کھیت میں منتقلی پر ہوتا ہے۔ باسمتی اقسام کے لیے پنیری کی منتقلی کا بہترین وقت 20 جون سے 20 جولائی تک مانا جاتا ہے، جب ملک میں مون سون ہوائیں داخل ہونا شروع ہوتی ہیں اور ہوا میں نمی کا تناسب بڑھ جاتا ہے۔

پنیری کی عمر 25 سے 30 دن ہونی چاہیے تاکہ پودے زمین میں جلدی جڑ پکڑ سکیں۔

اگر مون سون کی بارشوں میں تاخیر ہو جائے تو بوڑھی پنیری لگانے سے گریز کریں اور نرسری کو مناسب نمی فراہم کر کے رکھیں تاکہ پودے کمزور نہ ہوں۔

2. متبادل گیلا اور خشک طریقہ (AWD) کیا ہے؟

روایتی طور پر کسان دھان کے کھیت میں ہر وقت 3 سے 4 انچ پانی کھڑا رکھتے ہیں، جس سے اربوں لٹر زیرِ زمین میٹھا پانی ضائع ہوتا ہے۔

جدید زرعی تحقیق کے مطابق دھان کو ہمیشہ پانی میں ڈبو کر رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ متبادل گیلا اور خشک طریقہ (Alternate Wetting and Drying – AWD) اپنا کر 30 سے 40 فیصد پانی کی بچت کی جا سکتی ہے۔

اس طریقے میں جب کھیت کا پانی جذب ہو جائے اور مٹی میں ہلکی سی نمی کی لکیریں بننے لگیں تو دوبارہ پانی دیا جاتا ہے۔

مون سون کی موسلادھار بارشوں کے دوران کھیت کی مضبوط مینڈھیں (Borders) بنائیں تاکہ بارش کا سارا پانی کھیت کے اندر ہی جمع رہے اور کھادیں بہہ کر ضائع نہ ہوں۔

3. تیز بارشیں اور سیلابی کیفیت سے دھان کی فصل کا بچاؤ

اگرچہ چاول پانی پسند پودا ہے، لیکن نرسری کی منتقلی کے بعد اگر پودا گندلے سیلابی پانی میں مسلسل 4 سے 6 دن تک مکمل ڈوب جائے تو آکسیجن کی کمی سے پودے کا سانس گھٹ جاتا ہے اور وہ گل سڑ سکتا ہے۔

اس لیے کسانوں کو چاہیے کہ وہ کھیتوں میں اضافی بارش کے پانی کے اخراج کے لیے مناسب نکاسی کی نالیاں بنائیں۔

جب شدید بارش تھم جائے تو فوری طور پر گندلا پانی نکال کر تازہ پانی داخل کریں تاکہ پودوں کے پتوں پر جمی مٹی اور گدلا پن صاف ہو سکے۔

4. مون سون کی نمی، بادل اور دھان کی بیماریوں کا حملہ

مون سون کے دوران جب ہوا میں نمی 80 فیصد سے تجاوز کر جاتی ہے اور کئی دنوں تک دھوپ نہیں نکلتی تو بیکٹیریل اور فنگل بیماریاں تیزی سے پھیلتی ہیں۔

بیکٹیریل لیف بلائٹ (Bacterial Leaf Blight)

اس بیماری میں پتوں کے کنارے پیلے اور بھورے ہو کر سوکھنے لگتے ہیں۔ تیز ہواؤں اور برسات کے دوران یہ بیکٹیریا ایک پودے سے دوسرے میں تیزی سے منتقل ہوتا ہے۔

شیٹھ بلائٹ اور تنا جھلساؤ

زیادہ نمی کے باعث تنے اور پتوں کی بنیاد پر بھورے دھبے بنتے ہیں، جو بعد میں پورے پودے کو کمزور کر دیتے ہیں۔

بیماریوں سے بچاؤ کے لیے احتیاط

بارش کے موسم میں یوریا کھاد کا اندھا دھند استعمال نہ کریں، کیونکہ اضافی نائٹروجن پودے کو نرم بنا دیتی ہے، جس پر کیڑے اور پھپھوندی فوری حملہ کر سکتے ہیں۔

پوٹاش اور زنک کا استعمال پودے کی حفاظتی دیوار کو مضبوط بناتا ہے۔

5. دھان کی پکائی اور کٹائی کے دوران نمی کی جانچ

جب دھان کا سٹا پیلا ہونے لگے تو پودے کو پانی کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔

کٹائی سے 10 سے 15 دن قبل پانی بند کر دیں تاکہ زمین سخت ہو سکے اور مشینری باآسانی حرکت کر سکے۔

کٹائی کے وقت دانوں میں نمی 20 سے 22 فیصد ہونی چاہیے۔ گہائی کے بعد دانوں کو دھوپ میں اس وقت تک سکھائیں جب تک نمی 12 سے 14 فیصد تک نہ آ جائے، تاکہ ملنگ کے دوران چاول ٹوٹنے سے محفوظ رہیں۔

(مزید پڑھیں: گندم کی فصل پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات | مکمل زرعی گائیڈ

کسانوں کے لیے اہم عملی تجاویز

دھان کی کاشت اور مون سون کے دوران پانی کے درست انتظام اور بروقت فصل کی نگہداشت سے پانی کے ضیاع اور موسمی خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

  • بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے وٹوں کو بلند اور مضبوط رکھیں۔
  • بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے موسمی حبس کے دوران پیسٹ اسکاؤٹنگ جاری رکھیں۔
  • نائٹروجن اور پوٹاش کا متوازن استعمال بیماریوں اور لاجنگ سے بچاؤ کی کلید ہے۔
  • مون سون کے دوران کھیت میں اضافی پانی کی نکاسی کا مناسب انتظام رکھیں۔
  • بارش کے قدرتی پانی کو دانشمندانہ انداز میں استعمال کریں تاکہ آبپاشی کے پانی کے ضیاع کو کم کیا جا سکے۔

خلاصہ

پاکستان میں دھان کی کاشت اور مون سون ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ مون سون کی بارشیں دھان کے لیے پانی کی ضرورت پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، تاہم شدید بارش، مسلسل کھڑا پانی، زیادہ نمی اور بیماریوں کا پھیلاؤ فصل کے لیے مشکلات بھی پیدا کر سکتا ہے۔

اسی لیے پانی کے مؤثر استعمال، متبادل گیلا اور خشک طریقے (AWD)، مناسب نکاسی آب، متوازن کھادوں کے استعمال اور کٹائی سے پہلے نمی کی درست جانچ کے ذریعے کسان دھان کی فصل کو بہتر انداز میں سنبھال سکتے ہیں۔

یہ خبر شیئر کریں: Facebook WhatsApp X

پاک ویدر پرو ادارتی ٹیم

منظر عباس کی زیرِ ادارت پاک ویدر پرو ٹیم پاکستان کے موسم، بارش اور زرعی موسم کی معلومات کو واضح حوالہ جات اور سادہ اردو کے ساتھ شائع کرتی ہے۔

2 تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل عوامی طور پر شائع نہیں ہوگا۔ ضروری خانے نشان زد ہیں۔ تبصرہ بھیجنے پر آپ کی فراہم کردہ معلومات اور اسپام سے بچاؤ کے لیے تکنیکی ڈیٹا پراسیس ہو سکتا ہے؛ تفصیل پرائیویسی پالیسی میں موجود ہے۔