پاکستان میں بارش کی پیش گوئی: 21 سے 25 اگست تک تیز بارشوں اور آندھی کا امکان
موسمی صورتحال کا مجموعی جائزہ
تازہ ترین موسمی ڈیٹا اور دستیاب ماڈلز کے مطابق 21 اگست کی شام یا رات سے 25 اگست تک ملک کے مختلف علاقوں پر ایک طاقتور مغربی موسمی سسٹم اثر انداز ہونے کا امکان ہے۔ یہ سسٹم مون سون ہواؤں کے ساتھ تعامل کرتے ہوئے بالخصوص خیبر پختونخوا، شمالی و وسطی پنجاب، اسلام آباد، جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں، شمال مشرقی، وسطی اور جنوبی بلوچستان، کشمیر اور گلگت بلتستان میں موسم کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔
پاکستان میں بارش کی پیش گوئی کے مطابق 21 اگست کی شام یا رات سے 25 اگست تک ایک طاقتور مغربی موسمی سسٹم ملک کے مختلف علاقوں کو متاثر کرنے کا امکان ہے۔ یہ سسٹم مون سون ہواؤں کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا، پنجاب، بلوچستان، کشمیر اور گلگت بلتستان میں گرج چمک، تیز ہواؤں اور بارشوں کا سبب بن سکتا ہے۔
خیبر پختونخوا: صوبے کے بیشتر علاقوں میں بارش کا امکان
21 اگست کی شام/رات سے 25 اگست تک خیبر پختونخوا کے تقریباً تمام اضلاع مغربی سسٹم اور مون سون ہواؤں کے مشترکہ اثر کے زیرِ اثر رہنے کا امکان ہے۔
اس دوران ایبٹ آباد، باجوڑ، بنوں، بٹگرام، بونیر، چارسدہ، ڈیرہ اسماعیل خان، ہنگو، ہری پور، خیبر، کوہاٹ، کولئی پالس، کرم، لکی مروت، لوئر چترال، لوئر دیر، لوئر جنوبی وزیرستان، ملاکنڈ، مانسہرہ، مردان، مہمند، شمالی وزیرستان، نوشہرہ، اورکزئی، پشاور، شانگلہ، صوابی، سوات، ٹانک، تورغر، اپر چترال، اپر دیر اور اپر جنوبی وزیرستان سمیت دیگر علاقوں میں وقفے وقفے سے بادل بننے کا امکان ہے۔
متعدد علاقوں میں گرج چمک، تیز سے شدید آندھی یا جھکڑوں کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے۔ بالخصوص بالائی اور پہاڑی علاقوں میں بعض مقامات پر بارش کا سلسلہ نسبتاً زیادہ فعال رہنے کا امکان موجود ہے۔
پنجاب اور اسلام آباد: تیز ہواؤں کے ساتھ گرج چمک اور بارش
21 اگست کی شام یا رات سے 25 اگست تک اسلام آباد اور پنجاب کے شمالی، شمال مشرقی اور وسطی علاقوں میں موسمی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے، جبکہ جنوبی پنجاب کے بعض اضلاع بھی اس سسٹم سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
متاثرہ علاقوں میں اسلام آباد، راولپنڈی، مری، اٹک، چکوال، تلہ گنگ، جہلم، گجرات، منڈی بہاؤالدین، میانوالی، خوشاب، سرگودھا، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، حافظ آباد، نارووال، لاہور، قصور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، فیصل آباد، جھنگ، بھکر، لیہ، تونسہ، ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، ملتان، خانیوال، ساہیوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، پاکپتن اور اوکاڑہ شامل ہیں۔
ان علاقوں میں مختلف اوقات کے دوران بادل بننے، تیز ہواؤں اور جھکڑوں کے ساتھ گرج چمک اور بارش کے امکانات موجود ہیں۔ بعض مقامات پر آندھی یا شدید جھکڑوں کے بعد بارش کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے، اس لیے کھلے مقامات، کمزور تعمیرات اور بجلی کے کھمبوں کے قریب احتیاط کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
بلوچستان: شمال مشرقی، وسطی اور خضدار ریجن میں موسمی سرگرمی
بلوچستان کے متعدد علاقوں میں بھی مذکورہ موسمی سسٹم کے اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ 21 سے 25 اگست کے دوران شمال مشرقی، وسطی اور جنوبی بلوچستان کے بعض علاقوں میں بادل بننے اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
متاثرہ علاقوں میں ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل، بارکھان، کوہلو، دکی، لورالائی، قلعہ سیف اللہ، زیارت، کوئٹہ، ہرنائی، مستونگ، سبی، کچھی، جھل مگسی، نصیر آباد، ڈیرہ بگٹی، جعفرآباد، استاد محمد، صحبت پور، قلات، سکندر آباد اور خضدار ریجن شامل ہیں۔
ان علاقوں میں بعض مقامات پر تیز سے شدید آندھی، جھکڑوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے۔ خشک اور کھلے علاقوں میں تیز ہواؤں کے باعث گرد آلود آندھی کی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
کشمیر اور گلگت بلتستان: بارشوں کا بھرپور امکان
مغربی موسمی سسٹم کے اثر سے 21 اگست کی شام یا رات سے 25 اگست تک کشمیر اور گلگت بلتستان کے بیشتر علاقوں میں بادل بننے اور بارشوں کے امکانات موجود ہیں۔
کشمیر
مظفرآباد، وادی نیلم، جہلم ویلی، باغ، حویلی، پونچھ، سدھنوتی، کوٹلی، میرپور اور بھمبر سمیت مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ وسیع خطۂ کشمیر کے اننت ناگ، بانڈی پورہ، بارہ مولہ، بڈگام، گاندربل، جموں، کٹھوعہ، کشتواڑ، کلگام، کپواڑہ، پلوامہ، راجوری، رام بن، ریاسی، سانبہ، شوپیاں، سری نگر، ادھم پور، ڈوڈہ، لیہہ اور کارگل کے علاقوں میں بھی بادل بننے اور بارشوں کے امکانات موجود ہیں۔
گلگت بلتستان
گلگت، غذر، ہنزہ، نگر، دیامر، استور، اسکردو، شگر، گانچھے اور کھرمنگ سمیت گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں بادل بننے اور وقفے وقفے سے بارش یا گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
پہاڑی علاقوں میں مقامی جغرافیائی اثرات کے باعث موسم میں تیزی سے تبدیلی آ سکتی ہے، جبکہ بعض مقامات پر بارش نسبتاً زیادہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مغربی ہوائیں پاکستان میں کیا ہیں؟ بارش، برفباری اور موسمِ سرما کا نظام
سندھ: بیشتر علاقوں میں گرم اور حبس زدہ موسم برقرار
مذکورہ موسمی سسٹم کے دوران 21 سے 25 اگست تک سندھ کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم مجموعی طور پر گرم اور حبس زدہ رہنے کا امکان ہے۔ صوبے کے زیادہ تر علاقوں میں کسی وسیع یا منظم بارش کے امکانات محدود رہیں گے۔
البتہ کراچی اور سندھ کی ساحلی پٹی میں سمندری ہواؤں اور بادلوں کے اثر سے بعض اوقات ہلکی بوندا باندی یا پھوار پڑنے کا امکان موجود ہے۔ ساحلی علاقوں میں بادلوں کی موجودگی کے باعث درجہ حرارت میں معمولی کمی محسوس ہو سکتی ہے، تاہم حبس کی کیفیت برقرار رہنے کا امکان ہے۔
اہم خلاصہ
21 اگست کی شام/رات سے 25 اگست تک ملک کے شمالی، شمال مشرقی، وسطی اور بعض جنوبی علاقوں میں ایک فعال موسمی سلسلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ سب سے زیادہ موسمی سرگرمی خیبر پختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان، شمالی و وسطی پنجاب، اسلام آباد اور بلوچستان کے منتخب علاقوں میں متوقع ہے۔
اس دوران گرج چمک، تیز ہواؤں، آندھی، جھکڑوں اور مختلف شدت کی بارشوں کا امکان موجود ہے۔ موسمی صورتحال مقامی حالات اور سسٹم کی شدت کے مطابق مختلف علاقوں میں تبدیل ہو سکتی ہے، اس لیے شہریوں کو چاہیے کہ وہ آئندہ دنوں کی تازہ موسمی اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔
نوٹ: آندھی، گرج چمک اور بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، کھلے مقامات اور کمزور درختوں یا بجلی کے کھمبوں کے قریب کھڑے ہونے سے احتیاط کریں۔
دستبرداری: یہ موسمی پیش گوئی دستیاب موسمی ڈیٹا اور مختلف عددی موسمی ماڈلز کے تجزیے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ موسم کی صورتحال میں مقامی اور وقتی تبدیلیاں ممکن ہیں، لہٰذا شہری تازہ ترین سرکاری موسمی معلومات اور انتباہات کے لیے Pakistan Meteorological Department (PMD) سے رجوع کریں۔ یہ پیش گوئی صرف عمومی معلومات کے مقصد کے لیے ہے۔


